Disable Preloader

Latest News

محکمہ اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور خیبر پختونخوا کے زیر اہتمام صوبہ بھر کی 117 اقلیتی عبادات گاہوں میں ضروری اشیاء تقسیم کرنے کی تقریب منعقد ہوئی۔ اس موقع پر اقلیتی عبادات گاہوں کو ان کی ضروریات کے مطابق 30 الیکٹرک واٹر کولرز، 25 ساؤنڈ سسٹمز بمعہ ایمپلی فائر، 1,000 کرسیاں، 37 بڑے سائز کے پتیلے، 1 جنریٹر اور 30 کراکری سیٹس فراہم کیے گئے، جبکہ ضم شدہ اضلاع کی 18 اقلیتی عبادات گاہوں کے لیے بھی 11 الیکٹرک واٹر کولرز، 11 ساؤنڈ سسٹمز بمعہ ایمپلی فائر، 76 کرسیاں، 3 بڑے سائز کے پتیلے، 11 جنریٹرز اور 15 کراکری سیٹس پر مشتمل 127 اشیاء فراہم کی گئیں۔

مجموعی طور پر صوبہ بھر کی 135 اقلیتی عبادات گاہوں کو 1,249 ضروری اشیاء فراہم کی جا رہی ہیں، جن میں 41 الیکٹرک واٹر کولرز، 36 ساؤنڈ سسٹمز بمعہ ایمپلی فائر، 1,076 کرسیاں، 40 بڑے سائز کے پتیلے، 12 جنریٹرز اور 45 کراکری سیٹس شامل ہیں۔ ان سہولیات کی فراہمی سے اقلیتی عبادت گاہوں میں مذہبی تقریبات اور اجتماعی سرگرمیوں کے انعقاد میں بہتری آئے گی اور عبادت گزاروں کو بہتر سہولیات میسر آئیں گی۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی صوبائی وزیر برائے اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور خیبرپختونخوا جناب صاحبزادہ محمد عدنان قادری صاحب تھے ۔ پروگرام میں اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے مذہبی رہنماؤں، عبادت گاہوں کے منتظمین اور مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے اقلیتی برادری کے افراد نے شرکت کی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر صاحبزادہ محمد عدنان قادری نے کہا کہ حکومت خیبرپختونخوا، وزیر اعلیٰ جناب سہیل آفریدی کی قیادت میں اقلیتی برادریوں کے آئینی، مذہبی اور شہری حقوق کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی عبادات گاہوں کو ضروری سہولیات کی فراہمی حکومت کے اس عزم کا عملی اظہار ہے کہ تمام شہریوں کو بلاامتیاز مذہب مساوی سہولیات اور احترام فراہم کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بین المذاہب ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور سماجی یکجہتی کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں مزید مؤثر بنائے گی۔

سیکرٹری اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور، جناب عطاء الرحمن نے اپنے خطاب میں کہا کہ محکمہ اقلیتی برادریوں کی فلاح و بہبود، مذہبی آزادی اور عبادت گاہوں کی بہتری کے لیے متعدد ترقیاتی اور فلاحی منصوبوں پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام اقلیتی عبادت گاہوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ حکومت کے مساوی شہری حقوق اور پرامن، ہم آہنگ معاشرے کے وژن کی عکاسی کرتا ہے۔